Home Blog

برف کا کمبل

0

برف کا کمبل

یہ کہانی ہے ایک لڑکے سلمان کی جو ایک گاؤں میں رہتا تھا۔ اس کی ایک بیٹی تھی جس کا نام مشل تھا۔ ادھر گاؤں میں بیچنے کا کام کیا جاتا تھا۔ سلمان کی چادر سردیوں میں ہی بکا کرتی تھی۔اور باقی کے مہینے سلمان کو اپنے کام میں گھاٹا ہوا کرتا تھا۔
“جب جب گرمیوں کا موسم آتا ہے ہمیشہ مجھے ایسے ہی تکلیفیں آتی ہیں۔ایک دن سلمان نے اپنی بیٹی سے کہا نہ کوئی چادر بکتی ہے نہ کوئی سامان۔” تب بیٹی نے کہا “ابو آپ کو بیچنا کیوں ہے؟ آپ میرے ساتھ گھر پر وقت گزارا کیجیے نا۔” سلمان نے کہا “اگر میں تمہارے ساتھ گھر میں وقت گزاروں گا تو ہمارے گھر کھانا کیسا بنے گا”۔ سلمان سوچتے ہوئے اپنے گھر سے گاؤں کی اور چلا جاتا ہے اور سوچتا ہے کہ کیا کروں؟
تب ہی وہ گاؤں کے کچھ لوگوں کو باتیں کرتے ہوئے سنتا ہے کہ “کتنی زیادہ گرمی ہے۔ ابھی گرمیاں آنے میں 15 دن باقی ہیں مگر پھر بھی اتنی گرمی ہے۔ پتہ نہیں آگے کیا ہوگا؟” تب ہی ایک خاتون وہاں پر مٹکا لے کر آتی ہے اور کہتی ہے کہ “اب کیا بتاؤں سلمان پورے قصبے میں پانی بھی نہیں ہے اور ہمیں دوسرے قصبے نے بھی پانی بھرنے سے منع کر دیا ہے”۔ سلمان نے کہا “گرمی بڑھتی ہی جا رہی ہے۔ کھیت سارے بنجر پڑے ہیں کہیں ایسا نہ ہو کہ کوئی پیاس سے اپنی جان کھو بیٹھے۔” دوسری عورت نے کہا “سچ کہا سلمان بھائی آپ نے۔ کچھ نہ کچھ تو قصبے کی حفاظت کے لیے سوچنا ہی ہوگا اور تو اور ہمارے قصبے کے جانور بھی اس وقت پانی کے بنا پیاسے ہیں”۔
یہ سب سن کر سلمان کا دل بہت ہی افسردہ ہوا اور سلمان نے کہا “میرے گھر تھوڑا سا پانی رکھا ہوا ہے۔ میں ان جانوروں کو پلا دیتا ہوں اس سے کم از کم ان کی دعائیں تو لگیں گی۔”
گھر جا کر سلمان نے ایک بالٹی پانی کی لا کر پیاسے جانوروں کو پلائی۔ جسے دیکھ کر سلمان کی بیٹی مشل نے اس سے کہا “کاش ابو ہمارے قصبے میں بھی پانی ہوتا۔ پانی ہی نہیں کاش ہمارے قصبے میں برف ہوتا۔ میں تو برف ہی سے سارے کام کرتی” سلمان نے کہا “لیکن یہ ممکن نہیں ہے بیٹا”. مشل نے کہا “ابو ایک بار آپ نے کہا تھا اگر کچھ ٹھان لو تو سب کچھ ممکن ہے۔” مشل کی بات سن کر سلمان اپنے گاؤں سے باہر چلا گیا اور وہاں جا کر دیکھا کہ گاؤں کا سرپنچ پانی بیچ رہا ہے۔ “آؤ آؤ پانی لے لو۔ ٹھنڈا ٹھنڈا پانی خرید لو۔ گرمی میں اپنی پیاس بجھاؤ۔ آجاؤ آجاؤ۔” سلمان نے سرپنچ سے کہا “سرپنچ صاحب! آپ بہت اچھا کام کر رہے ہیں لیکن آپ کے پاس پانی کہاں سے آ رہا ہے؟” سرپنچ نے کہا “تم آم کھاؤ نا۔ گھٹلیاں کیوں گن رہے ہو؟”۔ مسلمان نے کہا “مجھے بھی دو ٹھنڈی بوتلیں پانی دیجیے۔ میری بیٹی اس سے بہت خوش ہوگی۔ ”
سلمان سرپنچ کے پاس سے پانی لے کر اپنے گھر کی جانب چل دیا۔اس کی بیٹی پانی دیکھ کر بہت خوشی ہوئی اور سب نے بڑی محبت سے پانی پیا۔ اسے دوران ان کے گھر میں ایک گاؤں کی ایک خاتون آئی اور انہوں نے کہا “کیا بات ہے۔ سب ٹھنڈا ٹھنڈا پانی پی رہے ہیں۔” گرمی کی وجہ سے گاؤں کا اتنا برا حال تھا کہ ٹھنڈا پانی مل جانا بہت بڑی نعمت سمجھا جاتا تھا۔ سلمان نے کہا “دیکھ لو کیا زمانہ آگیا ہے. گھر میں شربت پیا کرتے تھے اب پانی پی رہے ہیں۔ اس عورت نے کہا “کہ پتہ نہیں اتنی گرمی میں سرپنچ جی کہاں سے اتنا ٹھنڈا پانی لا رہے ہیں اور ٹھنڈا پانی بیچ رہے ہیں ان کو دیکھ کر تو میرا جھی گھنگرا رہا ہے” سلمان نے کہا کہ “یہی بات تو میرے ذہن میں آئی لیکن وہ نیکی کا کام کر رہے ہیں نا تو۔۔۔ ” اس عورت نے سلمان کی بات کو کاٹتے ہوئے کہا “اگر وہ نیکی کا کام ہے تو پھر روپیہ کیوں لے رہے ہیں؟’ سلمان نے کہا “وہ کہتے ہیں نا کہ گھوڑا گھاس سے دوستی کرے گا تو کھائے گا کیا؟ اور آج تو میں بھی ان کے پاس نوکری مانگنے جا رہا ہوں۔ گھر میں کچھ تو اناج آئے گا۔ “
شام کو سلمان سرپنچ کے پاس نوکری کی تلاش میں اس کے گھر چلا گیا۔ اس وقت اس نے دیکھا کہ سرپنچ اور اس کی بیگم گھر کے انگن میں کھڑے ہو کر باتیں کر رہے ہیں۔ سرپنچ بیگم سے کہتا ہے “سن رہی ہوں بیگم! کچھ دن اور گاؤں والوں کو لوٹ کر ہم مالا مال ہو جائیں گے۔ بیگم نے کہا “میں تو سوچ بھی نہیں سکتی کہ اس بکری کی بددعا کی وجہ سے ہمیں اتنا منافع ہو رہا ہے’ سرپنچ نے کہا “جب تک ہم اس بکری کو اس گودام میں رکھیں گے تب تک ہمیں ایسے ہی روزی ملتی رہے گی۔” گھر کے پاس کھڑا ہسلمان ساری باتیں سن کر دنگ رہ گیا اس نے خود سے کہا “میں نے سربنچ جی کو مالک کا روپ سمجھا تھا لیکن یہ تو پورے کے پورے شیطان نکلے۔ مجھے یہ سارا ماجرہ سمجھنا پڑے گا۔ آخر یہ برف کی گودام ہے کیا؟”
اگلے دن سلمان سرپنچ جی کا پیچھا کرنے لگا اور دیکھا سرپنچ ایک جنگل سے ہوتا ہوا ایک بڑے سے غار کی طرف جا رہا ہے جہاں سے بکری کی ممیانے کی آوازیں آرہی ہیں۔ سلمان نے کہا بکری کی آوازیں کیسی؟ کہیں یہ وہی بکری تو نہیں جس کے بارے میں سرپنچ جی اپنی بیوی کے ساتھ بات کر رہے تھے۔ سرپنچ غار کے اندر جا چکا تھا۔ سلمان بھی سرپنچ کا پیچھا کرتے ہوئے اندر چلا گیا اور وہاں جا کر دیکھا کہ بکری ٹھنڈ کی وجہ سے بری طرح کانپ رہی تھی۔ سرپنچ نے اس بکری سے کہا “تم چاہے جتنا بھی میمیا لو میں تمہیں باہر نہیں نکالنے والا۔ تم اندر ہو اسی وجہ سے ہم باہر مزے مار رہے ہیں” سلمان سلمان سے برداشت نہیں ہوا اور اس نے کہا “یہ کیا حال بنا رکھا ہے اپ نے اس بکری کارکھا سرپنچ جی۔ میں آپ کی ساری باتیں جان گیا ہوں۔ اس کو چھوڑ دیجیے ورنہ میں پورے گاؤں کو یہ ساری باتیں بتا دوں گا۔” سرپنچ نے کہا “رک جاؤ سلمان! ایسا مت کرنا۔ پہلے میری باتیں تو سن لو۔ تب تم نے جو کرنا ہوا کر لینا۔” تب جا کے سرپنچ نے سلمان کو ساری باتیں بتائی۔ “میں اور میری بیوی ایک بار جنگل میں جا رہے تھے تب ایک بابا اس بکری کو لے کر کھڑے تھے۔ اس نے بولا بیٹا میری بکری پیاس سے جونچ رہی ہے کیا تم اسے پانی پلاؤ گے؟ سرپنچ نے کہا “جی یہ لیجیے۔ لیکن میرے پاس بس تھوڑا سا ہی پانی بچا ہے۔” اس بابا نے کہا “بیٹا تمہارے پاس جتنا ہے اتنا ہی پلا دو کوئی بات نہیں۔” اور جیسے ہی میں نے اس بکری کو پانی پلایا تو بابا نے مجھے بہت ساری دعائیں دی اور کہنے لگا ‘اس جنگل کا غار برف کا ہو جائے گا لیکن تمہیں میری بکری کو پالنا ہوگا اور اگر تم اس بکری کو باہر لے کر آئے تو بس پھر وہ غار مٹی کا ہو جائے گا اور تمہاری بیگم پر پریشانی آجائے گی۔ اس بکری کی دیکھ بھال تمہیں کب تک کرنی ہے جب تک میں مالیہ کے جنگل سے جڑی بوٹیاں لے کر واپس نہ آجاؤں۔” یہ کہہ کر وہ سادھو بابا وہاں سے غائب ہو گئے۔
سرپنچ کی بات سن کر سلمان بھی سہم گیا۔ وہ سرپنچ سے کہنے لگا “یہ آپ کیا کر رہے ہیں؟ اس بکری کی جان بچانی ہوگی۔ زیادہ دن برف میں رہنے سے تو اس کی جان جا سکتی ہے اس کو باہر لے جائیے۔ سرپنچ نے کہا “نہیں ایسا مت کرو میری بیگم کی جان خطرے میں آ جائے گی”۔ سلمان نے کہا “میں تمہاری ایک نہیں سننے والا مجھے لے جانے دو۔ ” سلمان سرپنچ کو دھکا دے کر اس بکری کو باہر لے کر چلا گیا۔ جیسے ہی سلمان بکری کو لے کر اج سے باہر گیا تو پورا غار مٹی کا ہو گیا۔ ٹھنڈ کی وجہ سے بکری کانپ رہی تھی۔ سلمان نےاسے دھوپ میں کھڑا کیا تھا کہ اسے گرمی لگے اور جیسے ہی بکری کو گرم ہوا لگی بکری کہنے لگی “سلمان مجھے بچانے کے لیے شکریہ۔ میں ایک جادو کی بکری ہوں تم نے مجھے بچایا اس لیے میں تمہاری ایک خواہش پوری کروں گی۔” سلمان نے کہا “تم بول کیسے رہی ہو؟ تمہیں میرا نام کیسے پتہ ہے؟” بکری نے کہا “میں لوگوں کو دیکھ کر ان کا نام اور کام بتا دیتی ہوں۔ میری خواہش یہ ہے کہ تمہاری ساری چادریں برف کی ہو جائیں گی۔ جہاں میں کھڑی ہوں اس جگہ کی مٹی کو لے جا کر اپنی چادروں میں رکھ دو وہ ساری برف کی ہو جائیں گی۔ اور مجھے یہیں جنگل میں چھوڑ دو۔ سرپنچ بھی باہر آگیا تھا اور سارا ماجرہ دیکھ رہا تھا۔ بکری نے سرپنچ سے کہا “سرپنچ! اب تمہاری بیگم محفوظ ہے۔” سرپنچ نے کہا “کیا سچ؟ تمہارا بہت بہت شکریہ”. سلمان نے کہا کہ “میں برف کی چادروں سے اس گاؤں کے لوگوں کی بھلائی کروں گا۔ پوری گرمی میں سب لوگوں کو چادر بانٹوں گا”۔
سلمان نے اس بکری کے قدموں کی مٹی اٹھائی اور اس کو لے جا کر اپنے گھر کی چادروں پر ڈالنے لگا۔دیکھتے ہی دیکھتے ساری چادر برف کی ہو گئی۔ سلمان نے اپنی بیٹی سے کہا “میں ساری چادریں اپنے گاؤں میں بانٹ دوں گا تاکہ لوگوں کے لیے اس شدید گرمی میں کچھ راحت ہو’ ۔ اس کی بیٹی مشل نے کہا “لگتا ہے ابا جی؛ آپ نے اپنے دل کی خواہش پوری کر لی۔ اتنی ساری برف کی چادریں آپ نے بنائی کیسے؟”۔ سلمان نے کہا “یہ ایک جادوئی چادر ہے۔ جو ہمیشہ برف کی رہے گی۔ مشل نے خوشی سے کہا “ارے میں تو اس برف کی چادر کو لپیٹ کر کھیلوں گی۔” سلمان بھی اپنی بیٹی کے چہرے پر خوشی دیکھ کر کھل کھلا اٹھا۔ پھر اس نے برف کی چادریں پورے گاؤں میں بانٹیں ۔پورے گاؤں سے گرمی کا قہر ختم ہو گیا اور سلمان، سرپنچ، گاؤں والے سب خوشی خوشی رہنے لگے۔

شیر اور خرگوش

0

شیر اور خرگوش

ایک گھنے جنگل میں ایک شیر رہا کرتا تھا۔ وہ تمام جنگل کا بادشاہ تھا لیکن وہ بادشاہ جیسے پیش نہیں آتا تھا۔ ہر دن بے رحمی سے جنگل کے جانوروں کو کھا جایا کرتا تھا۔ شیر کے خوف سے جنگل کے جانور چھپ جایا کرتے تھے اور خود اپنی بھوک اور پیاس کی وجہ سے سخت مشکل سے دوچار ہونے لگے تھے۔

اس طرح کچھ دن بعد جنگل کے تمام جانور ایک مقام پر جمع ہوئے اور شیر کے شر سے محفوظ رہنے کے لیے سب مل کر رائے مشورہ کرنے لگے۔ سب نے اپنی اپنی بات رکھی اور آخر میں ایک گیدڑ نے کہا “میرا خیال ہے کہ ہمیں شہر کے ہاتھ لگنے کے بجائے ہم خود ایک ایک بار شیر کے پاس چلے جائیں اس طرح روزانہ شیر کسی ایک کو کھا لے گا اور ہم سب اپنی اپنی باری سے چلے جائیں گے اور بلا خوف و ڈر سکون سے زندگی گزاریں گے”۔ گیدڑ کے مشورے پر تمام جانور رضامند ہو گئے۔

ایک بندر نے کہا “ٹھیک ہے تمہاری بات بالکل درست ہے۔ موت کا خوف رکھنے کے بجائے اپنی باری تک ہم اطمینان اور سکون کی زندگی گزار سکیں گے”۔ جانوروں کی بات چیت مکمل ہونے کے بعد خود گیدڑ نے شیر کے پاس جا کر یہ ساری بات بتائی۔ گیدڑ کی بات سننے کے بعد شیر نے کہا “میں بادشاہ ہوں اس لیے تم سب کی بات مان رہا ہوں لیکن ایک بات غور سے سن لو اگر کسی دن مجھے جانور ملنے سے تاخیر ہو جائے تو میں خاموش نہیں بیٹھوں گا اور دوبارہ تم سب پر حملہ شروع کرنا شروع کروں گا”۔ شیر نے بڑے غصے سے سب کہا۔ شیر کی باتیں سن کر گیدڑ نے سر ہلاتے ہوئے حامی بھر لی اور وہاں سے چلا گیا۔

اس دن کے بعد ایک ایک جانور بلاناغہ اپنی اپنی باری کے مطابق شیر کے پاس جانے لگا اور شیر سکون سے اپنے پاس آنے والے جانور کو مار کر اپنی بھوک میں مٹانے لگا۔ یہ معاملہ ایسے ہی چل رہا تھا کہ ایک دن شیر کے پاس جانے کی باری خرگوش کی آئی۔ وہ خرگوش بہت ہی ہوشیار تھا۔ اسے شیر کے پاس جانا منظور نہیں تھا اور اس نے اپنے ساتھی جانوروں کو اور خود کو بچانے کے لیے شیر کو ختم کرنے کی ٹھان لی اور ایک اچھی تدبیر نکال کر آہستہ آہستہ شیر کی غفا کے پاس پہنچ گیا۔

کافی تاخیر ہو جانے سے شیر کافی غصے میں تھا اور اس خرگوش کو دیکھ کر غصے سے کہنے لگا “میں نے تم سب کو پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ دیر ہو جائے تو خاموش نہیں بیٹھوں گا۔ تم نے میری وعدہ خلافی کی ہے اس لیے میں جنگل جا کر من چاہے جانور کا شکار کروں گا اور اس کو کھا جاؤں گا”۔ تب خرگوش نے شیر سے کہا “معاف کر دیں بادشاہ سلامت! غلطی ہو گئی اور اس کا ایک سبب ہے۔ اطمینان رکھیے میں بیان کرتا ہوں۔ آپ سنیے اور اس کے بعد آپ آرام سے مجھے مار کر کھا لیجیے گا”۔ شیر نے پھر خرگوش سے کہا “وہ کیا بات ہے؟ جلدی بتاؤ”۔ خرگوش نے کہا “بادشاہ سلامت میں آپ کے پاس آرہا تھا تو راستے میں مجھے ایک اور شیر مل گیا اور مجھے مارنے کے لیے آگے بڑھنے لگا۔ میں نے آپ کی بہادری کی بات اس شیر کے سامنے رکھی۔ مگر وہ شیر آپ کے بارے میں بہت برا بھلا کہنے لگا۔ یہ سن کر میں نے غصے سے کہا کہ تم ہمارے جنگل کے نہیں ہو ہمارے بادشاہ کے بارے میں ایسی باتیں مت کہو۔ یہ سن کر وہ شیر مجھ پر حملہ کرنے کو تیار ہو گیا۔ یہ دیکھ کر میں نے کہا تم مجھے مارو گے تو ہمارے بادشاہ ہرگز تمہیں نہیں بخشیں گے۔ پر اس شیر نے کہا کہ تمہارا بادشاہ میرا کیا کر لے گا میں نے کئی ہاتھیوں کو اپنے پنجے سے مار گرایا ہے تمہارا بادشاہ ہو یا کوئی اور ہو میرے ہاتھوں بچ نہیں سکتا اور میرے سامنے کوئی ٹک نہیں سکتا ۔میں اسے ختم کروں گا۔ یہ سب باتیں وہ مجھ سے کہنے لگا ۔ میں نے اس شیر سے کہا کہ تم ہمارے بادشاہ سے آکر بات کرو اور اس نے فخر سے کہا کہ میں کیوں آؤں تمہارے بادشاہ میں دم ہے تو اسے ہی یہاں لے کر آؤ۔ یہ کہہ کر وہ شیر دھاڑنے لگا۔ بادشاہ سلامت اسی لیے آنے میں دیر ہو گئی”۔

یہ سنتے ہی شیر غصے سے کہنے لگا “چلو ابھی چلتے ہیں اور اسے میں ختم کر دوں گا”۔ یہ سننے کے بعد خرگوش شیر کو جنگل کے درمیان ایک کنویں کے پاس لے گیا اور کہنے لگا “بادشاہ سلامت دیکھیے وہ شیر آپ کا بے صبری سے انتظار کر رہا ہے۔ آپ اسے اچھے سے سبق سکھائیے”۔ شیئر غصے سے فورا کنوئیں میں جھانکنے لگا اور زور سے دھاڑنے لگا۔ تب دوسری جانب سے بھی دوسرا شیر دھاڑتا ہوا محسوس ہوا۔ تب خرگوش نے کہا “دیکھیں اسے کتنا فخر ہے آپ کو کیسے نیچا دکھا رہا ہے”۔ یہ کہہ کر وہ شیر کو جوش دلانے لگا۔ شیر نے بنا کچھ سوچے سمجھے غصے میں فوراً کنوئیں میں چھلانگ لگا دی۔ کنوئیں میں کوئی نہیں تھا۔ شیر پانی میں ہاتھ پیر مارتا رہا وہ وہاں سے نکل نہیں پایا اور وہیں پانی میں اس نے دم توڑ دیا۔

اس طرح خرگوش نے اپنی عقلمندی سے نہ صرف اپنی حفاظت کر لی بلکہ تمام جانوروں کو شیر کے خوف سے نجات دلائی۔ لہٰذا عقل کا استعمال کرتے ہوئے ہمیں اپنے آپ کو بچانا چاہیے۔ بازؤں کے زور سے دماغ کی طاقت زیادہ ہوتی ہے۔

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کا واقعہ

0

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کا واقعہ

صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہ نے حضور پاک رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ “اے اللہ کے رسول ہمیں اپنے بارے میں کچھ بتائیے”۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا “میں اپنے باپ ابراہیم علیہ السلام کی دعا ہوں۔ اپنے بھائی عیسی علیہ السلام کی بشارت اور خوشخبری ہوں۔ جب میں اپنی والدہ کی شکن میں آیا تو انہوں نے دیکھا کہ گویا ان سے نور ظاہر ہوا جس سے ملک شام میں بصرہ کے محلات روشن ہو گئے۔”

حضرت آمنہ رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت حلیمہ رضی اللہ تعالی عنہ سے فرمایا تھا کہ “میرے اس بچے کی شان نرالی ہے۔ یہ میرے پیٹ میں تھے تو مجھے کوئی تھکن اور بھوک محسوس نہ ہوتی تھی”۔

حضرت عیسی علیہ السلام نے بنی اسرائیل سے فرمایا کہ “بنی اسرائیل میں تمہارے پاس اللہ کا بھیجا ہوا نبی ہوں۔ مجھ سے پہلے تورات آچکی ہے اور میں اس کی تصدیق کرنے والا ہوں۔ اور میرے بعد جو رسول آنے والے ہیں ان کا نام مبارک احمد ہوگا۔ میں ان کی بشارت دینے والا ہوں”۔ اب چونکہ حضرت عیسی علیہ السلام بشارت سنا چکے تھے اس لیے ہر دور کے لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کا بے چینی سے انتظار کرنے لگے۔

ادھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش سے پہلے ہی حضرت عبداللہ انتقال کر گئے تھے۔ عبداللہ تجارتی قافلے کے ساتھ تجارت کے لیے گئے تھے اس دوران بیمار ہو کر لوٹے اور کمزور ہو گئے۔ قافلہ مدینہ منورہ سے گزرا حضرت عبداللہ اپنے ننھیال یعنی بنو نجار کے ہاں ٹھہرے۔ ان کی والدہ بن نجار سے تھیں۔ ایک ماہ تک بیمار رہے اور پھرانتقال کر گئے اور انہیں وہیں دفن کر دیا گیا۔ تجارتی قافلہ جب حضرت عبداللہ کے بغیر مکہ مکرمہ میں پہنچا اور عبدالمطلب کو پتہ چلا کہ ان کے بیٹے بیمار ہو گئے ہیں اور مدینہ منورہ میں اپنے ننھیال میں ہیں تو انہیں لانے کے لیے عبدالمطلب نے اپنے بیٹے زبیر کو بھیجا۔ جب یہ وہاں پہنچے تو حضرت عبداللہ کا انتقال ہو چکا تھا۔ مطلب یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا میں اپنے والد کی وفات کے چند ماہ بعد ہی تشریف لائے۔

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا میں تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ناف کٹی ہوئی تھی حالانکہ اس ناف کو بچہ پیدا ہونے کے بعد دایا کاٹتی ہے۔ عبدالمطلب یہ دیکھ کر حیران ہوئے اور خوش بھی ہوئے۔ وہ کہا کرتے تھے میرا بیٹا نرالی شان کا ہوگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش سے پہلے مکہ کے لوگ خشک سالی اور قحط کا شکار تھے لیکن جونہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دنیا میں تشریف لانے کا وقت قریب آیا تو بارش برسنے لگی۔ خشک سالی دور ہو گئی۔ درخت ہرے بھرے ہو گئے اور پھلوں سے بھر گئے۔ زمین پر سبزہ ہی سبزہ نظر آنے لگا۔
پیدائش کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھوں پر جھکے ہوئے تھے سر آسماں کی طرف تھا۔ ایک روایت میں آتا ہے کہ گھٹنوں کے بل جھکے ہوئے تھے مطلب یہ کہ سجدے کی حالت میں تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مٹھی بند تھی اور شہادت کی انگلی اٹھی ہوئی تھی۔ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ‘جب میری والدہ نے مجھے جنم دیا تو ان سے ایک نور نکلا اور اس نور سے شام کے محلات جگمگا اٹھے”۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ سیدہ آمنہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتی ہیں کہ ‘محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کے وقت ظاہر ہونے والے نور کی روشنی سے مجھے بصرہ میں چلنے والے اونٹوں کی م گردنیں تک نظر آئیں”۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کب ہوئی اس میں سب کا اتفاق ہے کہ وہ پیر کا دن تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صبح فجر طلوع ہونے کے وقت دنیا میں تشریف لائے۔ تاریخ پیدائش کے سلسلے میں بہت سے قول ہیں۔ ایک روایت کے مطابق 12 ربیع الاول کو پیدا ہوئے۔ پیر کے روز ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ ہجرت فرمائی اور پیر کے روز ہی آپ کی وفات ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے اخری رسول ہیں اور نبی ہیں آپ کے بعد نہ کوئی نبی آیا اور نہ ہی ہوگا۔ یہ ہم تمام مسلمانوں کا عقیدہ ہے۔

ہمارے پیارے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عادات مبارکہ

0

ہمارے پیارے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عادات مبارکہ

چونکہ ہر مسلمان پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع لازم ہے۔ اس لیے ہر مسلمان کو چاہیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادات اور سیرت سے واقف ہو تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مکمل طور پر اتباع کی جائے۔

مختلف روایات کا اتفاق ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنےلباس کی طہارت اور پاکیزگی کا بہت خیال رکھتے تھے۔کبھی کبھی بال بڑھا لیا کرتے تھے مگر بالوں کو نہایت صاف اور کنگی سے سنوار کر رکھتے تھے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم تیز تیز چلتے تھے حتیٰ کہ ان کے صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہ کو ان کے ساتھ قدم ملا کر چلنے سے دقت پیش آتی تھی۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم گفتگو نہایت آہستہ آہستہ کرتے تھے۔ ایک راوی کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم اتنا ٹھہر ٹھہر کر بولتے تھے کہ ان کی بات کا ہر ایک لفظ گنا جا سکتا تھا۔چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے نکلا ہوا ہر لفظ قانون تھا لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے تھے کہ وہ جو لفظ بھی کہیں سننے والل اس کو نہایت غور سے سنیں اور سمجھ لیں۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہایت سادگی سے زندگی بسر کرتے تھے وہ اپنے جوتوں کی خود مرمت کرتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بکریوں کا دودھ دھوتے اور اس کام کے لیے اپنے خادم کو تکلیف دینا بھی گوارا نہ کرتے۔ان کے ذاتی خادم حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ کا کہنا ہے میں نے دس سال حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گزارے انہوں نے مجھ سے ایک بار بھی نہیں پوچھا کہ تم نے یہ کام کیوں نہیں کیا یا کیوں کیا ہے؟۔ وہ ہمیشہ مجھ سے نہایت شفقت فرماتے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ تھی کہ آپ سب ننھے منے بچوں سے بڑا پیار کرتے تھے اور جہاں کہیں بچوں کو دیکھتے خوش ہو جاتے۔ اور بچوں کو ھنسانے کے لیے ان سے مذاق بھی کرتے۔ فطری طور پر وہ اپنے نواسوں حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ تعالی عنہ سے بے حد محبت کرتے۔ بسا اوقات وہ نماز کے دوران بھی ان میں سے ایک کو بازوں میں اٹھا لیتے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں جاتے تو نواسے کو پاس کھڑا کر لیتے اور سجدے سے اٹھ کر اسے پھر گود میں لے لیتے۔جب دونوں بچے ذرا سیانے ہوئے تو وہ مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں ادھر ادھر دوڑتے پھرتے۔ باجماعت نماز کے دوران کبھی کبھار رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ٹانگوں میں سے گزر جاتے آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں کچھ نہ کہتے۔

اللہ کے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہر ایک سے مشفقانہ برتاؤ کرتے حتیٰ کہ لوگ ان سے لمبی لمبی بے سر پیر باتیں بھی کرتے مگر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کوئی اکتاہٹ محسوس نہ کرتے اور نہ کرواتے۔
سبحان اللہ!

کیا شان ہے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی۔ کیا اوصاف حمیدہ ہے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے۔ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگی میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی انتیاری عادات مبارکہ کو بھی شامل کریں اور انہیں اپنا معمول بنا لیں۔

Deep Quotes in English

0

There are a lot of deep quotations available in English that can help individuals become more inspired and motivated. You can read and share some of the deep quotations ever said in English.

“In the depths of adversity, we discover the true strength of our character.”

“A life well-lived is not measured by its length, but by the depth of its impact.”

“Just as the ocean holds mysteries beneath its surface, so do our souls harbor hidden depths.”

“The darkest nights often lead to the brightest stars, for it’s in darkness that we learn to seek the light within.”

“Wisdom is a treasure found in the deep recesses of experience and reflection.”

“The depth of love is measured not by its passion, but by its unwavering presence in times of turmoil.”

“Like roots reaching deep into the earth, our beliefs shape the foundation of who we become.”

“Growth requires descending into the depths of discomfort before we can rise to new heights of achievement.”

“In the quiet depths of solitude, we hear the whispers of our own hearts and find the answers we seek.”

“The mind is like an ocean; its true power lies in its vastness and unexplored depths.”

“Emotions, like ocean currents, can run deep and turbulent, yet they also carry the potential for profound beauty.”

“Life’s complexities reveal themselves in the depths of contemplation, where clarity emerges from the chaos.”

“Courage is not the absence of fear, but the ability to delve into the depths of fear and emerge stronger.”

“Like a deep well, our inner peace remains undisturbed regardless of the storms that may rage above.”

“The journey to self-discovery is a dive into the deep, where we uncover the treasures hidden within.”

Short Quotes in English

0

There are a lot of short quotations available in English that can help individuals become more inspired and motivated. You can read and share some of the short quotations ever said in English.

“The only way to do great work is to love what you do.” – Steve Jobs

“In the midst of difficulty lies opportunity.” – Albert Einstein

“The future depends on what you do today.” 

“Knowledge is power, but enthusiasm pulls the switch.” – Ivern Ball

“Success is not final, failure is not fatal: It is the courage to continue that counts.” – Winston Churchill

“The greatest glory in living lies not in never falling, but in rising every time we fall.” – Nelson Mandela

“The only person you should try to be better than is the person you were yesterday.” 

“The journey of a thousand miles begins with a single step.” – Lao Tzu

“Don’t watch the clock; do what it does. Keep going.” – Sam Levenson

“You miss 100% of the shots you don’t take.” – Wayne G

retzky

“The true sign of intelligence is not knowledge but imagination.” – Albert Einstein

“Believe you can and you’re halfway there.” – Theodore Roosevelt

“Hardships often prepare ordinary people for an extraordinary destiny.” – C.S. Lewis

“The best way to predict the future is to create it.” – Peter Drucker

“Life is 10% what happens to us and 90% how we react to it.” – Charles R. Swindoll

Islamic Quotes in English

0

There are a lot of Islamic quotations available in English that can help individuals become more inspired and motivated. You can read and share some of the Islamic quotations ever said in English.

Prophet Muhammad (PBOH) said

“There are two blessings, and most people evaluate these blessings incorrectly: Health and free time.” [Bukhari, Al-Riqaq (Heart Melting Traditions); 1]

 

Prophet Muhammad (PBOH) said

“The most blessed house among Muslims is the one in which an orphan is cared for. The worst house among Muslims is the one in which an orphan is treated badly.” [Ibn Maja, Al-Adab (Manners); 6]

Prophet Muhammad (PBOH) said

“The approval of Allah is the approval of the mother and father. The anger of Allah is the anger of the mother and father.” [Tirmidhi, Al-Birr (Virtue); 3]

Prophet Muhammad (PBOH) said

“The approval of Allah is the approval of the mother and father. The anger of Allah is the anger of the mother and father.” [Tirmidhi, Al-Birr (Virtue); 3]

Prophet Muhammad (PBOH) said

“A Muslim is someone from whom other Muslims are safe, both from their actions and their words. A believer is someone from whom the property and lives of others are safe.” [Tirmidhi, Al-Iman (Faith); 12]

Prophet Muhammad (PBOH) said

“The strong person is not the one who can overpower others, but the one who can control themselves when they are angry.”

Prophet Muhammad (PBOH) said

“The most merciful among people are the most merciful to the creatures of Allah.”

Prophet Muhammad (PBOH) said

“Every person makes mistakes. The most blessed of those who make errors is he who repents.” [Tirmidhi, Al-Qiyama (Judgement); 49]

Prophet Muhammad (PBOH) said

“Never belittle a good act, even if it is nothing more than smiling at a fellow Muslim!” [Muslim, Al-Birr (Virtue); 144]

Rasulullah SAW said,

“One who does not behave gently is considered to have been deprived of all their good deeds.” [Muslim, Al-Birr (Virtue) 74]

Part of the perfection of someone’s Islam is his leaving alone that which does not concern him. [ Hadith hasan – recorder by Tirmidhi ]

Prophet Muhammad (PBOH) said

“Wisdom and knowledge are things that the believer lacks. He should take them wherever he finds them. ”[Tirmidhi, Al-Ilm; (Knowledge) 19]

قیامت کی نشانیاں

0

قیامت کی نشانیاں

قیامت کی نشانیوں کے بارے میں قرآن و حدیث میں زیادہ تعداد میں اشارات کی گئی ہیں۔ یہاں کچھ عام قیامت کی نشانیوں کی ذکر کی جائے گی:

ظہور حضرت عیسیٰ علیہ السلام: ایک اہم قیامت کی نشانی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آخری دنوں میں ظاہر ہوکر دنیا میں واپس آئیں گے۔

دجال کا ظہور: دجال ایک مخصوص شخصیت ہوگا جو قیامت کے قریب آکر انسانوں کو گمراہ کرے گا۔

یوم القیامۃ کی آوازیں: قیامت کے دن آسمان سے ایسی آوازیں آئیں گی جو پوری دنیا میں سنائی دیں گی۔

ظاہر ہونے والی زلزلے: بڑے زلزلوں کی نشانی ہوگی جو زمین کو ہلا دیں گے۔

ملائکہ کی نشانیاں: قیامت کے قریب ملائکہ ظاہر ہونے لگیں گے جو انسانوں کو قیامت کی تیاری کی طرف بلائیں گے۔

دنیا کی تباہی: قیامت کے قریب دنیا میں ایک بڑی تباہی آئے گی جس سے بہت ساری امتوں کا تباہ ہونا معلوم ہوگا۔

مومنین اور کافرین کے امور کی زیادہ تشدد: قیامت کے قریب مومنین اور کافرین کے درمیان تشدد بڑھے گا۔

یہ صرف چند قیامت کی نشانیوں کی مثالیں ہیں، اور قرآن اور حدیث میں بہت ساری اور مختلف نشانیوں کا ذکر ہوتا ہے جو قیامت کے آنے کی بشارت دیتے ہیں۔

چار بیل

0

چار بیل

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ چار بيل تھے۔ چاروں میں بہت پیار تھا۔ چاروں آپس میں بہت خوش تھے۔
ایک دن شير کی نظر ان چاروں پر پڑی۔ وہ اُن کو کھانا چاہتا تھا مگر وہ کھا نہیں سکتا تھا کیونکہ وہ چاروں ایک ساتھ رہتے تھے۔
ایک دن ایسا ہوا کہ ایک بیل نے کہا تينوں بیلوں کو کہ ایک جگہ بہت ساری گھاس اُگی ہے ہم وہاں چل کر گھاس کھاتے ہیں۔ تو دوسرے بیلوں میں سے ایک نے کہا چلو انتظار کس چیز کا ہے۔ چلو۔
جب چاروں وہاں پہنچ گئے تو چوتھے نے پہلے سے کہا کہ تم پہرا دو ہم تب تک ہم گھاس کھا لیتے ہیں۔ تو اس نے کہا ارے میں کیوں پہرا دوں ہمیشہ تم اپنی مرضی کرتے ہو۔ اسی طرح جھگڑا شروع ہوگیا اور لڑائی بڑھ گئی۔
چاروں بیل جدا ہو گئے اوراپنے اپنے رستے پر چلے گئے۔ یہ سب شیر دیکھ رہا تھا۔
جیسے ہی وہ چاروں اپنے اپنے راستے پر نکلے۔ شیر نے ایک دم ان میں سے ایک بیل پر جھپٹا مار دیا اور یوں ایک ایک کرکے چاروں کو کھا گیا۔
نتیجہ یہ ہوا کہ چاروں بیلوں کو اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑے۔ لہذا ہمیں بھی اتفاق سے رہنا چاہیے اور ایک دوسرے سے لڑائی جھگڑا نہیں کرنا چاہیے۔ کیونکہ لڑائی جھگڑا کرنے سے ہمارا ہی نقصان ہوتا ہے۔

بنو اور بنی – آسمانی سفر

0

بنو اور بنی – آسمانی سفر

بنو اور بنی ایک چھوٹے سے گاؤں میں رہتے تھے۔ وہ بہن بھائی بہت محبت سے ایک ساتھ کھیلتے، پڑھتے اور جمع ہوتے تھے۔ ان کی مشہوری یہ تھی کہ وہ ہمیشہ مل کر کوئی نئے مسلے سلجھاتے۔

ایک دن، بنو اور بنی کو نیک دل دادیجیے نے ایک کتاب دی جس کے تصاویر آسمانی مناظر تھے۔ وہ دیکھ کر حیران ہوگئے کہ کتاب میں جا کر وہ آسمانی جگہوں کی سیر کرسکتے ہیں۔

بنو نے کہا، “بنی، ہم ایک آسمانی سفر پر جانا چاہتے ہیں۔”
بنی نے مسکرا کر جواب دیا، “ہاں بھائی، یہ بہت مزیدار لگتا ہے!”

بچوں نے اپنی پوری محنت اور مخلصی سے مل کر ایک چھوٹا سا ہوائی جہاز تیار کیا۔ انہوں نے وہ کتاب کھولی اور آسمانی مناظر کو دیکھا۔ بنو کا دل بھر آیا، وہ دیکھ رہے تھے جیسے خود وہاں موجود ہو۔

پہلا مقام جہاز جہاں پہنچا وہ تھا چمکتے ہوئے تاروں کا جھیل۔ دونوں بچے ایک ہی جذبات سے بھر کر چل پڑے، ستاروں کی باتوں میں کھوئے ہوئے۔

دوسرے دن، وہ نیبو گلی کے باغات میں پہنچے، جہاں مختلف رنگوں کے پھول معصومیت سے مسکرا رہے تھے۔

تیسرے دن، آسمانی دھوپ میں چھپے ہوئے پھولوں کے گاؤں کی خوشبو ان کے دل کو بہکا رہی تھی۔

بنو اور بنی نے ہر مقام پر نت نئے کھیل کھیلے، تفریح کی اشیاء بنائیں اور نئی دوستیاں بنائیں۔

آخری دن، جب وہ واپسی سفر کے لئے تیار ہوئے تو وہ اپنے دل میں اس سفر کی قیمت کو سمجھ گئے۔ انہوں نے آخری مقام پر کھڑے ہوکر آسمان کی خوبصورتی کو دیکھا اور دنیا بھر میں جو رنگینیاں ہیں ان کا احترام کیا۔

واپس گاؤں آنے پر، انہوں نے اپنی کہانی سنائی، جس نے گاؤں کے لوگوں کو ان کے آسمانی سفر کی خوشیوں کا حصہ بنایا۔

بنو اور بنی کی کہانی نے سب کو یہ سکھ دیا کہ جہاں بھی ہم جائیں، ہمیں اس جگہ کی قدر کرنی چاہیے اور اس کی خوشیوں کو دوسروں کے ساتھ تقسیم کرنا چاہیے۔