ایک بہادر جنگجو حضرت خولہ بنت ازور رضی اللہ تعالیٰ عنہا

اسلامی تاریخ میں ایک بہادر جنگجو صحابیہ گزری ہیں جنہوں نے تنہا رومیوں کو شکست دی اور اپنا نام تعریخ کی بہادر عورتوں میں لکھوا لیا۔ یہ خاتون حضرت خولہ بنت ازور رضی اللہ تعالیٰ عنہا تھیں۔ یہ حضرت ضرار بن ازور رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بہن تھیں۔
حضرت ضرار رضی اللہ تعالیٰ عنہ بہت بہادر سپاہی تھے۔ اس دور میں ان کے دشمن ان کے نام سے کانپ اٹھتے تھے۔ اتنی بہادری، پھرتی اور تیزی سے لڑتے تھے کہ دشمن کی صفیں چیر کر آگے نکل جاتے تھے۔ رومیوں کے خلاف جنگ میں حضرت ضرار رضی اللہ تعالیٰ عنہ اتنی پھرتی اور بہادری سے لڑے کہ دشمن کی صفیں چیرتے ہوئے پتہ نہیں کب مسلمانوں کے لشکر سے جدا ہو کر دشمن فوج کے لشکر کے درمیان پہنچ گئے۔ دشمن نے ان کو اپنے درمیان اکیلا پا کر ان کو بہت مشکل سے ہی سہی مگر قید کر لیا۔

مسلمانوں تک بھی یہ خبر پہنچ گئی۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت ضرار رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو چھڑوانے کے لیے ایک بہادر فوج کا دستہ تیار کیا اور ہدایات دینے لگے۔ اتنے میں انہوں نے ایک نقاب پوش سوار کو دیکھا جو گَرد اڑاتا ہوا دشمن کی فوج پر حملہ آور ہوا۔ اس سوار نے اتنی تیزی اور تند خوئی سے حملہ کیا کہ دشمن اس کے آگے گھٹنے ٹیکنے کو مجبور ہو گیا۔

حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کے وار اور شجاعت دیکھ کر اَش اَش کر اٹھے اور ساتھیوں سے پوچھا کہ یہ سوار کون ہے؟ لیکن سب نے نا علمی ظاہر کی کہ وہ نہیں جانتے۔ حضرت خالد بن ولید اور صحابہ کرام بھی اس نقاب پوش کا ساتھ دینے کے لیے میدان جنگ میں اتر آئے۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ دو دفعہ اس نقاب پوش کے پاس آئے اور پوچھا کہ تم کون ہو؟ مگر وہ جواب دیے بغیر واپس جنگ میں مشغول ہو گیا۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اس سوار سے تین بار پوچھنے کے بعد وہ بولا کہ میں حضرت خولہ بنت ازورہوں ضرار کی بہن اور اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھوں گی جب تک کہ اپنے بھائی کو دشمن سے چھڑوا نہ لوں۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پوچھا کہ آپ کو آنے کی کیا ضرورت تھی تو وہ بولی کہ جب بھائیوں پر کوئی مصیبت آتی ہے تو بہنیں ہی آگے آیا کرتی ہیں۔

پھر تمام صحابہ کرام اور حضرت خولہ بنت ازور رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے مل کر حضرت ضرار رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو آزاد کروا کر ہی دم لیا۔ ان دونوں بہن بھائیوں نے مل کر اسلامی تاریخ میں اپنی بہادری کی لازوال مثالیں رقم کی ہیں۔

Leave A Reply

Please enter your comment!
Please enter your name here