ہمارے پیارے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عادات مبارکہ

چونکہ ہر مسلمان پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع لازم ہے۔ اس لیے ہر مسلمان کو چاہیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادات اور سیرت سے واقف ہو تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مکمل طور پر اتباع کی جائے۔

مختلف روایات کا اتفاق ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنےلباس کی طہارت اور پاکیزگی کا بہت خیال رکھتے تھے۔کبھی کبھی بال بڑھا لیا کرتے تھے مگر بالوں کو نہایت صاف اور کنگی سے سنوار کر رکھتے تھے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم تیز تیز چلتے تھے حتیٰ کہ ان کے صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہ کو ان کے ساتھ قدم ملا کر چلنے سے دقت پیش آتی تھی۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم گفتگو نہایت آہستہ آہستہ کرتے تھے۔ ایک راوی کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم اتنا ٹھہر ٹھہر کر بولتے تھے کہ ان کی بات کا ہر ایک لفظ گنا جا سکتا تھا۔چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے نکلا ہوا ہر لفظ قانون تھا لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے تھے کہ وہ جو لفظ بھی کہیں سننے والل اس کو نہایت غور سے سنیں اور سمجھ لیں۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہایت سادگی سے زندگی بسر کرتے تھے وہ اپنے جوتوں کی خود مرمت کرتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بکریوں کا دودھ دھوتے اور اس کام کے لیے اپنے خادم کو تکلیف دینا بھی گوارا نہ کرتے۔ان کے ذاتی خادم حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ کا کہنا ہے میں نے دس سال حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گزارے انہوں نے مجھ سے ایک بار بھی نہیں پوچھا کہ تم نے یہ کام کیوں نہیں کیا یا کیوں کیا ہے؟۔ وہ ہمیشہ مجھ سے نہایت شفقت فرماتے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ تھی کہ آپ سب ننھے منے بچوں سے بڑا پیار کرتے تھے اور جہاں کہیں بچوں کو دیکھتے خوش ہو جاتے۔ اور بچوں کو ھنسانے کے لیے ان سے مذاق بھی کرتے۔ فطری طور پر وہ اپنے نواسوں حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ تعالی عنہ سے بے حد محبت کرتے۔ بسا اوقات وہ نماز کے دوران بھی ان میں سے ایک کو بازوں میں اٹھا لیتے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں جاتے تو نواسے کو پاس کھڑا کر لیتے اور سجدے سے اٹھ کر اسے پھر گود میں لے لیتے۔جب دونوں بچے ذرا سیانے ہوئے تو وہ مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں ادھر ادھر دوڑتے پھرتے۔ باجماعت نماز کے دوران کبھی کبھار رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ٹانگوں میں سے گزر جاتے آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں کچھ نہ کہتے۔

اللہ کے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہر ایک سے مشفقانہ برتاؤ کرتے حتیٰ کہ لوگ ان سے لمبی لمبی بے سر پیر باتیں بھی کرتے مگر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کوئی اکتاہٹ محسوس نہ کرتے اور نہ کرواتے۔
سبحان اللہ!

کیا شان ہے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی۔ کیا اوصاف حمیدہ ہے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے۔ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگی میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی انتیاری عادات مبارکہ کو بھی شامل کریں اور انہیں اپنا معمول بنا لیں۔

Leave A Reply

Please enter your comment!
Please enter your name here