چار بیل

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ چار بيل تھے۔ چاروں میں بہت پیار تھا۔ چاروں آپس میں بہت خوش تھے۔
ایک دن شير کی نظر ان چاروں پر پڑی۔ وہ اُن کو کھانا چاہتا تھا مگر وہ کھا نہیں سکتا تھا کیونکہ وہ چاروں ایک ساتھ رہتے تھے۔
ایک دن ایسا ہوا کہ ایک بیل نے کہا تينوں بیلوں کو کہ ایک جگہ بہت ساری گھاس اُگی ہے ہم وہاں چل کر گھاس کھاتے ہیں۔ تو دوسرے بیلوں میں سے ایک نے کہا چلو انتظار کس چیز کا ہے۔ چلو۔
جب چاروں وہاں پہنچ گئے تو چوتھے نے پہلے سے کہا کہ تم پہرا دو ہم تب تک ہم گھاس کھا لیتے ہیں۔ تو اس نے کہا ارے میں کیوں پہرا دوں ہمیشہ تم اپنی مرضی کرتے ہو۔ اسی طرح جھگڑا شروع ہوگیا اور لڑائی بڑھ گئی۔
چاروں بیل جدا ہو گئے اوراپنے اپنے رستے پر چلے گئے۔ یہ سب شیر دیکھ رہا تھا۔
جیسے ہی وہ چاروں اپنے اپنے راستے پر نکلے۔ شیر نے ایک دم ان میں سے ایک بیل پر جھپٹا مار دیا اور یوں ایک ایک کرکے چاروں کو کھا گیا۔
نتیجہ یہ ہوا کہ چاروں بیلوں کو اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑے۔ لہذا ہمیں بھی اتفاق سے رہنا چاہیے اور ایک دوسرے سے لڑائی جھگڑا نہیں کرنا چاہیے۔ کیونکہ لڑائی جھگڑا کرنے سے ہمارا ہی نقصان ہوتا ہے۔

Leave A Reply

Please enter your comment!
Please enter your name here