غزوۂ خندق میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی حضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا کردار

جب اسلام زندگی میں شامل ہوتا ہے تو ہمت خود بخود انسان کو اللہ کے دشمن کے مقابلے میں اس کے سامنے لا کھڑا کرتی ہے۔ ہمارے دین اسلام کی تاریخ میں ایک ایسی صحابیہ کا بھی ذکر درج ہے جن کے کارناموں پر مرد بھی رشک کرتے نظر آتے ہیں۔ انہیں تاریخ اسلام میں ایک مشرک کو قتل کرنے کا سب سے پہلے اعزاز حاصل ہوا۔ یہ وہ خاتون ہیں جنہوں نے ایک ایسے بہادر بیٹے حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جنم دیا جنہوں نے اسلام کی سربلندی کے لیے سب سے پہلے تلوار ہاتھ میں لی۔ یہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پھپی حضرت سیدنا صفیہ بنت عبد المطلب ہیں۔

انہوں نے میدان جہاد میں ایسے ایسے کارنامے سر انجام دیے جو تاریخ میں ایک سنہری باب کی حیثیت رکھتے ہیں جن میں ایک غزوۂ خندق کا بھی واقعہ ہے۔ جس کو ہمیشہ تاریخ اسلام میں یاد رکھا جائے گا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ تھی کہ جب بھی کسی غزوہ پر جانے کا ارادہ کرتا ہے تو مسلمان خواتین اور بچوں کی رہائش کا انتظام قلعے میں کرتے تاکہ دشمن کو نقصان نہ پہنچا سکے۔

غزوہ خندق میں مدینے کے تمام خواتین اور بچوں کو حضرت خثان کے قلعے میں محفوظ رکھا گیا۔ مسلمان دشمن کے مقابل ڈٹے ہوئے تھے۔ دشمنوں کے مد مقابل آنے کی وجہ سے عورتوں اور بچوں کی طرف مکمل توجہ نہ ہو سکی۔

ایک صبح منہ اندھیرے حضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے دیکھا کہ قلعے کے پاس ایک سایہ متحرک ہے اور انہوں نے قدموں کی آہٹ بھی سنی۔ غور سے دیکھا تو انہیں ایک شخص قلعے کی جانب بڑھتا ہوا دکھائی دیا۔ وہ قلعے کے اندرونی حالات معلوم کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ حضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو اندازہ ہو گیا کہ یہ اپنی قوم کے لیے جاسوسی کرنے آیا ہے اور معلوم کرنے آیا ہے کہ قلعے کے اندر کوئی مرد بھی ہے یا صرف خواتین اور بچے ہی ہیں تاکہ موقع ملتے ہی ان بچوں اور عورتوں کو قید کر لیتے۔اس وقت قلعے کے اندر کوئی مرد نہیں تھا جو عورتوں اور بچوں کے دفاع کے لیے آگے بڑھے۔

اس نازک موقع پر حضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے لاٹھی ہاتھ میں لی اور قلعے کے دروازے پر پہنچ گئیں۔ بڑی احتیاط سے اس دروازے میں چھوٹا سا سوراخ کیا اور اس میں سے دشمن کا انتظار کرنے لگی جب وہ قریب آگیا تو انہوں نے زوردار لاٹھی اس کے سر پردے ماری اور وہ چکر ا کر گر گیا۔اس کے بعد اس پر لاٹھیوں کی بھوچار کر دی یہاں تک کہ وہ موت کے منہ میں چلا گیا۔ آگے بڑھیں تلوار سے اس کی گردن کاٹی اور اوپر قلعے سے اس کا سر نیچے پھینک دیا۔ وہ سر لڑکھڑاتا ہوا ان یہودیوں کے پاس پہنچ گیا جو اس کا شدت سے انتظار کر رہے تھے۔ اپنے ساتھی کا سر دیکھ کر وہ گھبرا گئے اور یوں انہیں یقین ہو گیا کہ قلعے کے اندر بھی مجاہدین موجود ہیں۔

اس طرح حضرت صفیہ بنت عبدالمطلب نے مسلمانوں کی تاریخ میں بہادری اور شجاعت کی ایک عظیم مثال قائم کی اور دشمن قوم کو چکمہ دے دیا۔

Leave A Reply

Please enter your comment!
Please enter your name here