شیر اور خرگوش

ایک گھنے جنگل میں ایک شیر رہا کرتا تھا۔ وہ تمام جنگل کا بادشاہ تھا لیکن وہ بادشاہ جیسے پیش نہیں آتا تھا۔ ہر دن بے رحمی سے جنگل کے جانوروں کو کھا جایا کرتا تھا۔ شیر کے خوف سے جنگل کے جانور چھپ جایا کرتے تھے اور خود اپنی بھوک اور پیاس کی وجہ سے سخت مشکل سے دوچار ہونے لگے تھے۔

اس طرح کچھ دن بعد جنگل کے تمام جانور ایک مقام پر جمع ہوئے اور شیر کے شر سے محفوظ رہنے کے لیے سب مل کر رائے مشورہ کرنے لگے۔ سب نے اپنی اپنی بات رکھی اور آخر میں ایک گیدڑ نے کہا “میرا خیال ہے کہ ہمیں شہر کے ہاتھ لگنے کے بجائے ہم خود ایک ایک بار شیر کے پاس چلے جائیں اس طرح روزانہ شیر کسی ایک کو کھا لے گا اور ہم سب اپنی اپنی باری سے چلے جائیں گے اور بلا خوف و ڈر سکون سے زندگی گزاریں گے”۔ گیدڑ کے مشورے پر تمام جانور رضامند ہو گئے۔

ایک بندر نے کہا “ٹھیک ہے تمہاری بات بالکل درست ہے۔ موت کا خوف رکھنے کے بجائے اپنی باری تک ہم اطمینان اور سکون کی زندگی گزار سکیں گے”۔ جانوروں کی بات چیت مکمل ہونے کے بعد خود گیدڑ نے شیر کے پاس جا کر یہ ساری بات بتائی۔ گیدڑ کی بات سننے کے بعد شیر نے کہا “میں بادشاہ ہوں اس لیے تم سب کی بات مان رہا ہوں لیکن ایک بات غور سے سن لو اگر کسی دن مجھے جانور ملنے سے تاخیر ہو جائے تو میں خاموش نہیں بیٹھوں گا اور دوبارہ تم سب پر حملہ شروع کرنا شروع کروں گا”۔ شیر نے بڑے غصے سے سب کہا۔ شیر کی باتیں سن کر گیدڑ نے سر ہلاتے ہوئے حامی بھر لی اور وہاں سے چلا گیا۔

اس دن کے بعد ایک ایک جانور بلاناغہ اپنی اپنی باری کے مطابق شیر کے پاس جانے لگا اور شیر سکون سے اپنے پاس آنے والے جانور کو مار کر اپنی بھوک میں مٹانے لگا۔ یہ معاملہ ایسے ہی چل رہا تھا کہ ایک دن شیر کے پاس جانے کی باری خرگوش کی آئی۔ وہ خرگوش بہت ہی ہوشیار تھا۔ اسے شیر کے پاس جانا منظور نہیں تھا اور اس نے اپنے ساتھی جانوروں کو اور خود کو بچانے کے لیے شیر کو ختم کرنے کی ٹھان لی اور ایک اچھی تدبیر نکال کر آہستہ آہستہ شیر کی غفا کے پاس پہنچ گیا۔

کافی تاخیر ہو جانے سے شیر کافی غصے میں تھا اور اس خرگوش کو دیکھ کر غصے سے کہنے لگا “میں نے تم سب کو پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ دیر ہو جائے تو خاموش نہیں بیٹھوں گا۔ تم نے میری وعدہ خلافی کی ہے اس لیے میں جنگل جا کر من چاہے جانور کا شکار کروں گا اور اس کو کھا جاؤں گا”۔ تب خرگوش نے شیر سے کہا “معاف کر دیں بادشاہ سلامت! غلطی ہو گئی اور اس کا ایک سبب ہے۔ اطمینان رکھیے میں بیان کرتا ہوں۔ آپ سنیے اور اس کے بعد آپ آرام سے مجھے مار کر کھا لیجیے گا”۔ شیر نے پھر خرگوش سے کہا “وہ کیا بات ہے؟ جلدی بتاؤ”۔ خرگوش نے کہا “بادشاہ سلامت میں آپ کے پاس آرہا تھا تو راستے میں مجھے ایک اور شیر مل گیا اور مجھے مارنے کے لیے آگے بڑھنے لگا۔ میں نے آپ کی بہادری کی بات اس شیر کے سامنے رکھی۔ مگر وہ شیر آپ کے بارے میں بہت برا بھلا کہنے لگا۔ یہ سن کر میں نے غصے سے کہا کہ تم ہمارے جنگل کے نہیں ہو ہمارے بادشاہ کے بارے میں ایسی باتیں مت کہو۔ یہ سن کر وہ شیر مجھ پر حملہ کرنے کو تیار ہو گیا۔ یہ دیکھ کر میں نے کہا تم مجھے مارو گے تو ہمارے بادشاہ ہرگز تمہیں نہیں بخشیں گے۔ پر اس شیر نے کہا کہ تمہارا بادشاہ میرا کیا کر لے گا میں نے کئی ہاتھیوں کو اپنے پنجے سے مار گرایا ہے تمہارا بادشاہ ہو یا کوئی اور ہو میرے ہاتھوں بچ نہیں سکتا اور میرے سامنے کوئی ٹک نہیں سکتا ۔میں اسے ختم کروں گا۔ یہ سب باتیں وہ مجھ سے کہنے لگا ۔ میں نے اس شیر سے کہا کہ تم ہمارے بادشاہ سے آکر بات کرو اور اس نے فخر سے کہا کہ میں کیوں آؤں تمہارے بادشاہ میں دم ہے تو اسے ہی یہاں لے کر آؤ۔ یہ کہہ کر وہ شیر دھاڑنے لگا۔ بادشاہ سلامت اسی لیے آنے میں دیر ہو گئی”۔

یہ سنتے ہی شیر غصے سے کہنے لگا “چلو ابھی چلتے ہیں اور اسے میں ختم کر دوں گا”۔ یہ سننے کے بعد خرگوش شیر کو جنگل کے درمیان ایک کنویں کے پاس لے گیا اور کہنے لگا “بادشاہ سلامت دیکھیے وہ شیر آپ کا بے صبری سے انتظار کر رہا ہے۔ آپ اسے اچھے سے سبق سکھائیے”۔ شیئر غصے سے فورا کنوئیں میں جھانکنے لگا اور زور سے دھاڑنے لگا۔ تب دوسری جانب سے بھی دوسرا شیر دھاڑتا ہوا محسوس ہوا۔ تب خرگوش نے کہا “دیکھیں اسے کتنا فخر ہے آپ کو کیسے نیچا دکھا رہا ہے”۔ یہ کہہ کر وہ شیر کو جوش دلانے لگا۔ شیر نے بنا کچھ سوچے سمجھے غصے میں فوراً کنوئیں میں چھلانگ لگا دی۔ کنوئیں میں کوئی نہیں تھا۔ شیر پانی میں ہاتھ پیر مارتا رہا وہ وہاں سے نکل نہیں پایا اور وہیں پانی میں اس نے دم توڑ دیا۔

اس طرح خرگوش نے اپنی عقلمندی سے نہ صرف اپنی حفاظت کر لی بلکہ تمام جانوروں کو شیر کے خوف سے نجات دلائی۔ لہٰذا عقل کا استعمال کرتے ہوئے ہمیں اپنے آپ کو بچانا چاہیے۔ بازؤں کے زور سے دماغ کی طاقت زیادہ ہوتی ہے۔

Leave A Reply

Please enter your comment!
Please enter your name here