حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کا واقعہ

صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہ نے حضور پاک رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ “اے اللہ کے رسول ہمیں اپنے بارے میں کچھ بتائیے”۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا “میں اپنے باپ ابراہیم علیہ السلام کی دعا ہوں۔ اپنے بھائی عیسی علیہ السلام کی بشارت اور خوشخبری ہوں۔ جب میں اپنی والدہ کی شکن میں آیا تو انہوں نے دیکھا کہ گویا ان سے نور ظاہر ہوا جس سے ملک شام میں بصرہ کے محلات روشن ہو گئے۔”

حضرت آمنہ رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت حلیمہ رضی اللہ تعالی عنہ سے فرمایا تھا کہ “میرے اس بچے کی شان نرالی ہے۔ یہ میرے پیٹ میں تھے تو مجھے کوئی تھکن اور بھوک محسوس نہ ہوتی تھی”۔

حضرت عیسی علیہ السلام نے بنی اسرائیل سے فرمایا کہ “بنی اسرائیل میں تمہارے پاس اللہ کا بھیجا ہوا نبی ہوں۔ مجھ سے پہلے تورات آچکی ہے اور میں اس کی تصدیق کرنے والا ہوں۔ اور میرے بعد جو رسول آنے والے ہیں ان کا نام مبارک احمد ہوگا۔ میں ان کی بشارت دینے والا ہوں”۔ اب چونکہ حضرت عیسی علیہ السلام بشارت سنا چکے تھے اس لیے ہر دور کے لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کا بے چینی سے انتظار کرنے لگے۔

ادھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش سے پہلے ہی حضرت عبداللہ انتقال کر گئے تھے۔ عبداللہ تجارتی قافلے کے ساتھ تجارت کے لیے گئے تھے اس دوران بیمار ہو کر لوٹے اور کمزور ہو گئے۔ قافلہ مدینہ منورہ سے گزرا حضرت عبداللہ اپنے ننھیال یعنی بنو نجار کے ہاں ٹھہرے۔ ان کی والدہ بن نجار سے تھیں۔ ایک ماہ تک بیمار رہے اور پھرانتقال کر گئے اور انہیں وہیں دفن کر دیا گیا۔ تجارتی قافلہ جب حضرت عبداللہ کے بغیر مکہ مکرمہ میں پہنچا اور عبدالمطلب کو پتہ چلا کہ ان کے بیٹے بیمار ہو گئے ہیں اور مدینہ منورہ میں اپنے ننھیال میں ہیں تو انہیں لانے کے لیے عبدالمطلب نے اپنے بیٹے زبیر کو بھیجا۔ جب یہ وہاں پہنچے تو حضرت عبداللہ کا انتقال ہو چکا تھا۔ مطلب یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا میں اپنے والد کی وفات کے چند ماہ بعد ہی تشریف لائے۔

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا میں تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ناف کٹی ہوئی تھی حالانکہ اس ناف کو بچہ پیدا ہونے کے بعد دایا کاٹتی ہے۔ عبدالمطلب یہ دیکھ کر حیران ہوئے اور خوش بھی ہوئے۔ وہ کہا کرتے تھے میرا بیٹا نرالی شان کا ہوگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش سے پہلے مکہ کے لوگ خشک سالی اور قحط کا شکار تھے لیکن جونہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دنیا میں تشریف لانے کا وقت قریب آیا تو بارش برسنے لگی۔ خشک سالی دور ہو گئی۔ درخت ہرے بھرے ہو گئے اور پھلوں سے بھر گئے۔ زمین پر سبزہ ہی سبزہ نظر آنے لگا۔
پیدائش کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھوں پر جھکے ہوئے تھے سر آسماں کی طرف تھا۔ ایک روایت میں آتا ہے کہ گھٹنوں کے بل جھکے ہوئے تھے مطلب یہ کہ سجدے کی حالت میں تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مٹھی بند تھی اور شہادت کی انگلی اٹھی ہوئی تھی۔ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ‘جب میری والدہ نے مجھے جنم دیا تو ان سے ایک نور نکلا اور اس نور سے شام کے محلات جگمگا اٹھے”۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ سیدہ آمنہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتی ہیں کہ ‘محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کے وقت ظاہر ہونے والے نور کی روشنی سے مجھے بصرہ میں چلنے والے اونٹوں کی م گردنیں تک نظر آئیں”۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کب ہوئی اس میں سب کا اتفاق ہے کہ وہ پیر کا دن تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صبح فجر طلوع ہونے کے وقت دنیا میں تشریف لائے۔ تاریخ پیدائش کے سلسلے میں بہت سے قول ہیں۔ ایک روایت کے مطابق 12 ربیع الاول کو پیدا ہوئے۔ پیر کے روز ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ ہجرت فرمائی اور پیر کے روز ہی آپ کی وفات ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے اخری رسول ہیں اور نبی ہیں آپ کے بعد نہ کوئی نبی آیا اور نہ ہی ہوگا۔ یہ ہم تمام مسلمانوں کا عقیدہ ہے۔

Leave A Reply

Please enter your comment!
Please enter your name here