برف کا کمبل

یہ کہانی ہے ایک لڑکے سلمان کی جو ایک گاؤں میں رہتا تھا۔ اس کی ایک بیٹی تھی جس کا نام مشل تھا۔ ادھر گاؤں میں بیچنے کا کام کیا جاتا تھا۔ سلمان کی چادر سردیوں میں ہی بکا کرتی تھی۔اور باقی کے مہینے سلمان کو اپنے کام میں گھاٹا ہوا کرتا تھا۔
“جب جب گرمیوں کا موسم آتا ہے ہمیشہ مجھے ایسے ہی تکلیفیں آتی ہیں۔ایک دن سلمان نے اپنی بیٹی سے کہا نہ کوئی چادر بکتی ہے نہ کوئی سامان۔” تب بیٹی نے کہا “ابو آپ کو بیچنا کیوں ہے؟ آپ میرے ساتھ گھر پر وقت گزارا کیجیے نا۔” سلمان نے کہا “اگر میں تمہارے ساتھ گھر میں وقت گزاروں گا تو ہمارے گھر کھانا کیسا بنے گا”۔ سلمان سوچتے ہوئے اپنے گھر سے گاؤں کی اور چلا جاتا ہے اور سوچتا ہے کہ کیا کروں؟
تب ہی وہ گاؤں کے کچھ لوگوں کو باتیں کرتے ہوئے سنتا ہے کہ “کتنی زیادہ گرمی ہے۔ ابھی گرمیاں آنے میں 15 دن باقی ہیں مگر پھر بھی اتنی گرمی ہے۔ پتہ نہیں آگے کیا ہوگا؟” تب ہی ایک خاتون وہاں پر مٹکا لے کر آتی ہے اور کہتی ہے کہ “اب کیا بتاؤں سلمان پورے قصبے میں پانی بھی نہیں ہے اور ہمیں دوسرے قصبے نے بھی پانی بھرنے سے منع کر دیا ہے”۔ سلمان نے کہا “گرمی بڑھتی ہی جا رہی ہے۔ کھیت سارے بنجر پڑے ہیں کہیں ایسا نہ ہو کہ کوئی پیاس سے اپنی جان کھو بیٹھے۔” دوسری عورت نے کہا “سچ کہا سلمان بھائی آپ نے۔ کچھ نہ کچھ تو قصبے کی حفاظت کے لیے سوچنا ہی ہوگا اور تو اور ہمارے قصبے کے جانور بھی اس وقت پانی کے بنا پیاسے ہیں”۔
یہ سب سن کر سلمان کا دل بہت ہی افسردہ ہوا اور سلمان نے کہا “میرے گھر تھوڑا سا پانی رکھا ہوا ہے۔ میں ان جانوروں کو پلا دیتا ہوں اس سے کم از کم ان کی دعائیں تو لگیں گی۔”
گھر جا کر سلمان نے ایک بالٹی پانی کی لا کر پیاسے جانوروں کو پلائی۔ جسے دیکھ کر سلمان کی بیٹی مشل نے اس سے کہا “کاش ابو ہمارے قصبے میں بھی پانی ہوتا۔ پانی ہی نہیں کاش ہمارے قصبے میں برف ہوتا۔ میں تو برف ہی سے سارے کام کرتی” سلمان نے کہا “لیکن یہ ممکن نہیں ہے بیٹا”. مشل نے کہا “ابو ایک بار آپ نے کہا تھا اگر کچھ ٹھان لو تو سب کچھ ممکن ہے۔” مشل کی بات سن کر سلمان اپنے گاؤں سے باہر چلا گیا اور وہاں جا کر دیکھا کہ گاؤں کا سرپنچ پانی بیچ رہا ہے۔ “آؤ آؤ پانی لے لو۔ ٹھنڈا ٹھنڈا پانی خرید لو۔ گرمی میں اپنی پیاس بجھاؤ۔ آجاؤ آجاؤ۔” سلمان نے سرپنچ سے کہا “سرپنچ صاحب! آپ بہت اچھا کام کر رہے ہیں لیکن آپ کے پاس پانی کہاں سے آ رہا ہے؟” سرپنچ نے کہا “تم آم کھاؤ نا۔ گھٹلیاں کیوں گن رہے ہو؟”۔ مسلمان نے کہا “مجھے بھی دو ٹھنڈی بوتلیں پانی دیجیے۔ میری بیٹی اس سے بہت خوش ہوگی۔ ”
سلمان سرپنچ کے پاس سے پانی لے کر اپنے گھر کی جانب چل دیا۔اس کی بیٹی پانی دیکھ کر بہت خوشی ہوئی اور سب نے بڑی محبت سے پانی پیا۔ اسے دوران ان کے گھر میں ایک گاؤں کی ایک خاتون آئی اور انہوں نے کہا “کیا بات ہے۔ سب ٹھنڈا ٹھنڈا پانی پی رہے ہیں۔” گرمی کی وجہ سے گاؤں کا اتنا برا حال تھا کہ ٹھنڈا پانی مل جانا بہت بڑی نعمت سمجھا جاتا تھا۔ سلمان نے کہا “دیکھ لو کیا زمانہ آگیا ہے. گھر میں شربت پیا کرتے تھے اب پانی پی رہے ہیں۔ اس عورت نے کہا “کہ پتہ نہیں اتنی گرمی میں سرپنچ جی کہاں سے اتنا ٹھنڈا پانی لا رہے ہیں اور ٹھنڈا پانی بیچ رہے ہیں ان کو دیکھ کر تو میرا جھی گھنگرا رہا ہے” سلمان نے کہا کہ “یہی بات تو میرے ذہن میں آئی لیکن وہ نیکی کا کام کر رہے ہیں نا تو۔۔۔ ” اس عورت نے سلمان کی بات کو کاٹتے ہوئے کہا “اگر وہ نیکی کا کام ہے تو پھر روپیہ کیوں لے رہے ہیں؟’ سلمان نے کہا “وہ کہتے ہیں نا کہ گھوڑا گھاس سے دوستی کرے گا تو کھائے گا کیا؟ اور آج تو میں بھی ان کے پاس نوکری مانگنے جا رہا ہوں۔ گھر میں کچھ تو اناج آئے گا۔ “
شام کو سلمان سرپنچ کے پاس نوکری کی تلاش میں اس کے گھر چلا گیا۔ اس وقت اس نے دیکھا کہ سرپنچ اور اس کی بیگم گھر کے انگن میں کھڑے ہو کر باتیں کر رہے ہیں۔ سرپنچ بیگم سے کہتا ہے “سن رہی ہوں بیگم! کچھ دن اور گاؤں والوں کو لوٹ کر ہم مالا مال ہو جائیں گے۔ بیگم نے کہا “میں تو سوچ بھی نہیں سکتی کہ اس بکری کی بددعا کی وجہ سے ہمیں اتنا منافع ہو رہا ہے’ سرپنچ نے کہا “جب تک ہم اس بکری کو اس گودام میں رکھیں گے تب تک ہمیں ایسے ہی روزی ملتی رہے گی۔” گھر کے پاس کھڑا ہسلمان ساری باتیں سن کر دنگ رہ گیا اس نے خود سے کہا “میں نے سربنچ جی کو مالک کا روپ سمجھا تھا لیکن یہ تو پورے کے پورے شیطان نکلے۔ مجھے یہ سارا ماجرہ سمجھنا پڑے گا۔ آخر یہ برف کی گودام ہے کیا؟”
اگلے دن سلمان سرپنچ جی کا پیچھا کرنے لگا اور دیکھا سرپنچ ایک جنگل سے ہوتا ہوا ایک بڑے سے غار کی طرف جا رہا ہے جہاں سے بکری کی ممیانے کی آوازیں آرہی ہیں۔ سلمان نے کہا بکری کی آوازیں کیسی؟ کہیں یہ وہی بکری تو نہیں جس کے بارے میں سرپنچ جی اپنی بیوی کے ساتھ بات کر رہے تھے۔ سرپنچ غار کے اندر جا چکا تھا۔ سلمان بھی سرپنچ کا پیچھا کرتے ہوئے اندر چلا گیا اور وہاں جا کر دیکھا کہ بکری ٹھنڈ کی وجہ سے بری طرح کانپ رہی تھی۔ سرپنچ نے اس بکری سے کہا “تم چاہے جتنا بھی میمیا لو میں تمہیں باہر نہیں نکالنے والا۔ تم اندر ہو اسی وجہ سے ہم باہر مزے مار رہے ہیں” سلمان سلمان سے برداشت نہیں ہوا اور اس نے کہا “یہ کیا حال بنا رکھا ہے اپ نے اس بکری کارکھا سرپنچ جی۔ میں آپ کی ساری باتیں جان گیا ہوں۔ اس کو چھوڑ دیجیے ورنہ میں پورے گاؤں کو یہ ساری باتیں بتا دوں گا۔” سرپنچ نے کہا “رک جاؤ سلمان! ایسا مت کرنا۔ پہلے میری باتیں تو سن لو۔ تب تم نے جو کرنا ہوا کر لینا۔” تب جا کے سرپنچ نے سلمان کو ساری باتیں بتائی۔ “میں اور میری بیوی ایک بار جنگل میں جا رہے تھے تب ایک بابا اس بکری کو لے کر کھڑے تھے۔ اس نے بولا بیٹا میری بکری پیاس سے جونچ رہی ہے کیا تم اسے پانی پلاؤ گے؟ سرپنچ نے کہا “جی یہ لیجیے۔ لیکن میرے پاس بس تھوڑا سا ہی پانی بچا ہے۔” اس بابا نے کہا “بیٹا تمہارے پاس جتنا ہے اتنا ہی پلا دو کوئی بات نہیں۔” اور جیسے ہی میں نے اس بکری کو پانی پلایا تو بابا نے مجھے بہت ساری دعائیں دی اور کہنے لگا ‘اس جنگل کا غار برف کا ہو جائے گا لیکن تمہیں میری بکری کو پالنا ہوگا اور اگر تم اس بکری کو باہر لے کر آئے تو بس پھر وہ غار مٹی کا ہو جائے گا اور تمہاری بیگم پر پریشانی آجائے گی۔ اس بکری کی دیکھ بھال تمہیں کب تک کرنی ہے جب تک میں مالیہ کے جنگل سے جڑی بوٹیاں لے کر واپس نہ آجاؤں۔” یہ کہہ کر وہ سادھو بابا وہاں سے غائب ہو گئے۔
سرپنچ کی بات سن کر سلمان بھی سہم گیا۔ وہ سرپنچ سے کہنے لگا “یہ آپ کیا کر رہے ہیں؟ اس بکری کی جان بچانی ہوگی۔ زیادہ دن برف میں رہنے سے تو اس کی جان جا سکتی ہے اس کو باہر لے جائیے۔ سرپنچ نے کہا “نہیں ایسا مت کرو میری بیگم کی جان خطرے میں آ جائے گی”۔ سلمان نے کہا “میں تمہاری ایک نہیں سننے والا مجھے لے جانے دو۔ ” سلمان سرپنچ کو دھکا دے کر اس بکری کو باہر لے کر چلا گیا۔ جیسے ہی سلمان بکری کو لے کر اج سے باہر گیا تو پورا غار مٹی کا ہو گیا۔ ٹھنڈ کی وجہ سے بکری کانپ رہی تھی۔ سلمان نےاسے دھوپ میں کھڑا کیا تھا کہ اسے گرمی لگے اور جیسے ہی بکری کو گرم ہوا لگی بکری کہنے لگی “سلمان مجھے بچانے کے لیے شکریہ۔ میں ایک جادو کی بکری ہوں تم نے مجھے بچایا اس لیے میں تمہاری ایک خواہش پوری کروں گی۔” سلمان نے کہا “تم بول کیسے رہی ہو؟ تمہیں میرا نام کیسے پتہ ہے؟” بکری نے کہا “میں لوگوں کو دیکھ کر ان کا نام اور کام بتا دیتی ہوں۔ میری خواہش یہ ہے کہ تمہاری ساری چادریں برف کی ہو جائیں گی۔ جہاں میں کھڑی ہوں اس جگہ کی مٹی کو لے جا کر اپنی چادروں میں رکھ دو وہ ساری برف کی ہو جائیں گی۔ اور مجھے یہیں جنگل میں چھوڑ دو۔ سرپنچ بھی باہر آگیا تھا اور سارا ماجرہ دیکھ رہا تھا۔ بکری نے سرپنچ سے کہا “سرپنچ! اب تمہاری بیگم محفوظ ہے۔” سرپنچ نے کہا “کیا سچ؟ تمہارا بہت بہت شکریہ”. سلمان نے کہا کہ “میں برف کی چادروں سے اس گاؤں کے لوگوں کی بھلائی کروں گا۔ پوری گرمی میں سب لوگوں کو چادر بانٹوں گا”۔
سلمان نے اس بکری کے قدموں کی مٹی اٹھائی اور اس کو لے جا کر اپنے گھر کی چادروں پر ڈالنے لگا۔دیکھتے ہی دیکھتے ساری چادر برف کی ہو گئی۔ سلمان نے اپنی بیٹی سے کہا “میں ساری چادریں اپنے گاؤں میں بانٹ دوں گا تاکہ لوگوں کے لیے اس شدید گرمی میں کچھ راحت ہو’ ۔ اس کی بیٹی مشل نے کہا “لگتا ہے ابا جی؛ آپ نے اپنے دل کی خواہش پوری کر لی۔ اتنی ساری برف کی چادریں آپ نے بنائی کیسے؟”۔ سلمان نے کہا “یہ ایک جادوئی چادر ہے۔ جو ہمیشہ برف کی رہے گی۔ مشل نے خوشی سے کہا “ارے میں تو اس برف کی چادر کو لپیٹ کر کھیلوں گی۔” سلمان بھی اپنی بیٹی کے چہرے پر خوشی دیکھ کر کھل کھلا اٹھا۔ پھر اس نے برف کی چادریں پورے گاؤں میں بانٹیں ۔پورے گاؤں سے گرمی کا قہر ختم ہو گیا اور سلمان، سرپنچ، گاؤں والے سب خوشی خوشی رہنے لگے۔

Leave A Reply

Please enter your comment!
Please enter your name here