ایک پینٹر اور ایمانداری

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک گاؤں میں ایک پینٹر رہتا تھا جس کا نام ازلان تھا۔ وہ بہت ہی ایماندار اور وفادار پینٹر تھا۔ وہ کشتیاں اور گھر بہت اچھے سے پینٹ کرتا تھا۔
ایک دن ایک لڑکی اس کے پاس ائی اور اس نے کہا کہ مجھے اپنے باغیچے کی دیوار پینٹ کروانی ہے اور اس پینٹر نے کہا جیسا آپ حکم کریں۔ میں ایمانداری کے ساتھ بہت اچھے سے آپ کے باغیچے کی دیوار پینٹ کر دوں گا۔ پھر اس لڑکی نے کہا ، لیکن ایک مسئلہ ہے۔ میرے پاس بہت کم پیسے ہیں تمہیں دینے کے لیے۔ اس پینٹر نے کہا کہ آپ جتنے پیسے دینا چاہیں گی میں اتنے میں ہی دیوار پینٹ کر دوں گا۔
وہ پینٹر اتنا غریب تھا کہ کئی کئی راتیں وہ بھوکا سوتا تھا پھر بھی وہ گاہک کی ڈیمانڈ سے زیادہ پیسے نہیں لیتا تھا۔ ایک دن اس گاؤں میں بہت ہی امیر تاجر کا خاندان آیا۔ وہ ایک عالی شان گاڑی میں بیٹھ کر آیا اور ان کے پیچھے بھی بہت ساری گاڑیاں تھیں۔ جس میں بہت سے زیورات تحفے اور کپڑے کے تھان تھے۔
وہ تاجر اس گاؤں میں سیر و تفریح کے لیے آیا تھا۔ ایک دفعہ جب اس نے اپنے خاندان کو کشتی میں سیر و تفریح کے لیے بھیجنا چاہا تو اس نے اس پینٹر کو بلوایا تاکہ وہ اس کی کشتی کو پینٹ کروا سکے۔ وہ پینٹر اس تاجر کے پاس جا ہی رہا تھا کہ اس کو راستے میں اس کا ایک دوست ملا۔ اس دوست نے کہا کہاں جا رہے ہو؟ تو اذلان بولا کہ میں تاجر کے ہاں جا رہا ہوں۔ اس نے مجھے بلایا ہے تاکہ وہ اپنی کشتی کو پینٹ کروا سکے۔ اس کا دوست کہنے لگا کہ اگر تم تاجر کے ہاں جا رہے ہو تو تمہیں یہ پتہ ہے کہ تاجر بہت امیر شخص ہے تو تم اس سے تھوڑے زیادہ پیسے لے لو۔ تو اذلان نے کہا ایسی بات نہیں ہے اگر وہ امیر ہے تو کیا ہوا، میں اپنی ایمانداری کے ساتھ اتنے ہی پیسے لوں گا جتنے میں باقی گاؤں والوں سے لیتا ہوں۔ اس کا دوست کہنے لگا یار میری بات سمجھو ، وہ تاجر بہت امیر شخص ہے تمہیں اس سے کم از کم سونے کے پانچ سکے لینے چاہیٔے۔ تو ازلان بولنے لگا کہ ایمانداری کے ساتھ کام لینا چاہیٔے نہ کہ لالچ کے ساتھ۔ میں اتنے ہی پیسے لوں گا جتنے سب سے لیتا ہوں۔ یہ کہہ کر اذلان چلا گیا۔
جب وہ تاجر کے پاس پہنچا تو تاجر نے اسے کہا خوش آمدید۔ امید ہے تم خیریت سے ہو گے۔ اذلان کہنے لگا کہ میں خیریت سے ہوں۔ آپ حکم فرمائیے کیا چیز پینٹ کرنی ہے؟ تاجر نے کہا کہ مجھے بس ایک کشتی پینٹ کروانی ہے تاکہ میرے خاندان والے اس میں سیر و تفریح کے لیے جا سکیں۔ اذلان نے کہا میں ایمانداری کے ساتھ اس کشتی کو پینٹ کر دوں گا۔ تو تاجر نے کہا ارے تم مجھے یہ تو بتا دو کہ تم پیسے کتنے لو گے؟ اذلان کہنے لگا کہ میں صرف 40 روپے لوں گا اس سے زیادہ نہیں کیونکہ میں سب گاؤں والوں سے اتنے ہی پیسے لیتا ہوں کسی بھی چیز کو پینٹ کرنے کے لیے۔ تاجر کہنے لگا اچھا ٹھیک ہے تو یہ 40 روپے تم ابھی لے لو اور یہ کہہ کر اس تاجر نے اذلان کو 40 روپے دے دیے۔
اذلان فورا ہی پینٹ والی دکان پر گیا۔ وہاں سے پینٹ خرید کر وہ ایمانداری کے ساتھ کشتی کو پینٹ کرنے دریا کے کنارے چلا گیا۔ دریا کے کنارے اسے کشتی ملی اور وہ جب اس کو پینٹ کرنے لگا تب اس کو کشتی کے اندر ایک چھید نظر آیا۔ ایمانداری کے ساتھ پینٹ کرتے ہوئے جب اس کو وہ چھید نظر آیا تو اس نے چھید کو بند کرنے کے لیے دریا کے کنارے سے پتھروں کو اٹھایا اور اس چھید کو بند کر دیا تاکہ تاجر کے خاندان والوں کو کوئی نقصان نہ ہو۔ جب اس نے کشتی کو پینٹ کر لیا تو تاجر نے اپنے خاندان والوں کو اس کشتی میں بٹھایا اور سیر و تفریح کے لیے بھیج دیا۔
جب وہ اپنے خاندان والوں کو سیر و تفریقح کے لیے بھیج کر اپنے گھر آیا تو اس کو اس کشتی کا رکھوالا ملا۔ اس کشتی کے رکھوالے نے کہا تاجر صاحب آپ کہاں سے آرہے ہیں۔ تاجر نے کہا کہ میں اپنے خاندان والوں کو کشتی میں سیر و تفریح کے لیے بھیج کر آ رہا ہوں۔ تو اس رکھوالے نے کہا کہ ارے آپ کو اس کشتی میں اپنے خاندان والوں کو نہیں بٹھانا چاہیٔے تھا۔ ہمیں واپس اس کشتی کو بلانا ہوگا۔ تو تاجر کہنے لگا لیکن کیوں؟ تو رکھوالا کہنے لگا کہ آپ نہیں سمجھیں گے اس کشتی میں چھید تھا جس سے آپ کے خاندان والوں کو نقصان ہو سکتا ہے۔ پھر تاجر اور رکھوالا بھاگے بھاگے دریا کے کنارے گئے اور دور دور تک ان کو وہ کشتی نظر نہ آئی ۔تاجر گھٹنوں کے بل گر گیا اور رونے لگا کہ یہ میں نے کیا کر دیا۔ مجھے اس کشتی میں بٹھانا ہی نہیں چاہیے تھا اپنے خاندان والوں کو۔ یہ کہہ کر تاجر رونے لگا۔ اتنی دیر میں وہ کشتی واپس آئی اور تاجر خوش ہو گیا۔ اس نے کشتی کے اندر دیکھا تو اس میں کوئی سوراخ نہیں تھا۔ جو سوراخ تھا وہ پتھروں کی وجہ سے بند تھا۔
پھر گھر واپس آکر تاجر نے اس پینٹر کو بلایا اور سو سونے کے سکوں سے بھری پوٹلی پکڑا دی۔ اذلان کہنے لگا کہ صاحب یہ کیا ہے؟ تو تاجر کہنے لگا کہ یہ تمہارا انعام ہے۔ اذلان نے کہا کس چیز کا انعام؟ تو تاجر نے کہا تمہاری ایمانداری کا انعام۔ جو تم نے کشتی میں پتھر کی وجہ سے اس سوراخ کو بند کیا اس کا انعام۔ اور تم نے اس کے کوئی الگ پیسے بھی نہیں لیے یہ تمہاری ایمانداری کا انعام ہے اور یہ تمہارا حق ہے۔
تو جو پینٹر کل بھوکے پیٹ سوتا تھا وہ آج کسی بھی رات بھوکے نہیں سوتا۔ اس لیے ہمیں بھی چاہیے کہ ہم ایمانداری سے کام لیں اور کبھی بھی لالچ نہ کریں۔

Leave A Reply

Please enter your comment!
Please enter your name here