ایک ماں اور بھنڈی

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ چنکی اور گڈو دونوں بہن بھائی تھے- ایک بار جب وه سكول سے آرہے تھے تو انہوں نے اپنی کلاس کے ایک بچے کو کتابوں کی دکان پر دیکھا۔ یہ دیکھ کر وہ اس کے پاس جا پہنچے اور اس سے پوچھنے لگے کہ تم یہاں کیا کر رہے ہو اور یہاں سے کیا خرید رہے ہو؟      تو بچه بولنے لگا کہ میں تو کاغذ خرید رہا ہوں۔ تو یہ سن کر چنکی اور گڈو بولنے لگے کہ تم کاغذ کیوں خرید رہے ہو یہ سن کر وہ بچہ بولنے لگا کہ میں کاغذ ماں کے لیے خرید رہا ہوں  مدرز ڈے(ماؤں کا دن) آ نے والا ہے نا اس لیے۔ یہ سن کر چنکی اور گڈو سوچ میں پڑ گئے اور آگے چلنے لگے۔

راستے میں گڈوچنکی سے کہنے لگا کہ ہم مدرز ڈےپر کیا کریں۔ یہ سن کر چنکی کہنے لگی کہ ہم بھی کارڈ بنالیں گے تو گڈوکہنے لگا کہ پچھلی بار بھی تو ہم نے کارڈ ہی بنایا تھانا۔ تو چنکی کہنے لگی کہ پھر ہم ماں کا پسندیدہ کھانا ہی بنالیتے ہیں۔ تو گڈو کہنے لگا کہ ماں کو پسند کیا ہے تو چنکی نے کہا کہ سوچنا پڑے گا۔ گڈونے کہا کہ شائد ماں کو گاجر کا حلوہ پسند ہے۔ چنکی نے کہا کہ یہ ماں کو نہیں تمہیں پسند ہے۔ یہ سن کر دونوں ہسنے لگے اور کہنے لگے کہ ہم بابا سے پوچھ لیں گے۔

گھر آتے ہی وہ دونوں بابا کے آنے کا انتظار کرنے لگے۔ بابا جب آئے تو وہ دونوں دوڑتے دوڑتے بابا کے پاس گئے۔ بابا سے پوچھا تو بابا نے کہا کہ مجھے بھی نہیں پتہ کہ آپ کی ماما کو کیا پسند ہے۔ تو چنگی کہنے لگی کہ جیسے ماما کو ہمارے بارے میں سب پتہ ہے اسی طرح نانی کو بھی ماما کے بارے میں سب پتہ ہوگا توہم نانی سے پوچھ لیتے ہیں۔

نانی سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ آپ کی ماما کو املی کی چٹنی کے ساتھ بھنڈی کی سبزی پسند ہے اور انہوں کافی عرصہ سے یہ کھانا نہیں کھایا۔ یہ سنتے ہی چنکی اور گڈو نے کہا کہ یہ تو ہمیں بنانے ہی نہیں آتا۔ تونانی نے کہا میں تركيب بتاتی ہوں اور تم لوگ لکھتے جاؤ تو چنکی اور گڈو نے ساری ترکیب لکھ لی۔

آخر کارمدرز ڈے آہی گیا اور بابا نے کام سے چھٹی لی تاکہ وہ گڈو اور چنکی کی مددکر سکیں۔ ماما بازار چلی گئیں اور اب ان کے پاس سہی موقع تھا۔

انہوں نے مل کر لذیذ املی کی چٹنی اور بھنڈی کی سبزی تیار کی جب ان کی ماما گھر آئی تو ان کو کوئی جانی پہچانی خوشبو آنے لگی۔ جب انہوں میز پر سجا ہوا کھانا ديکھا تو وہ ایک دم چونک کر ره گئی۔ وہ لذيذ کھانا دیکھ گڑو اور چنکی کا شکریہ ادا کرنے لگیں اور پھر گڈو اور چنکی نے ایک ساتھ مدرز ڈےکی مبارکباد دی اور سب مل کر کھانا کھانے لگے اور یوں مدرز ڈے کے ساتھ ساتھ یہ کہانی بھی ختم ہوئی۔

Leave A Reply

Please enter your comment!
Please enter your name here