ایمان اور انقلاب کی بہترین مثال حضرت خنساء بنت امر

دین اسلام تو ایک ایسا مذہب ہے جو خود بخود انسان کے اندر جوش اور ولولہ پیدا کرتا ہے۔ اور اس کی شخصیت کو بدل کر ایک روشن زندگی کی طرف گامزن کرتا ہے۔ اسی طرح ایک عظیم صحابیہ حضرت خنساء بنت امر جن کی زندگی کو اسلام نے ایک الگ پہلو کی طرف گامزن کیا اور ان کا نام اسلامی تاریخ کے واقعات میں ایک خاص اہمیت کے ساتھ رقم کروایا۔

زمانہ جاہلیت میں ان کے بھائی قبائل دشمنی کی وجہ سے مارے گئے اور جاہلیت کی موت مر گئے۔ حضرت خنساء بنت امر بھی جاہلیت میں تھی ابھی اسلام قبول نہیں کیا تھا۔ بھائیوں کی موت کے غم میں انہوں نے مرثیے لکھنا شروع کر دیے۔ سر میں خاک ڈال دی گریبان چاک کر دیا۔ کہا جب تک میرے بھائیوں کے خون کا بدلہ نہ لیا جائے میں یہ حالت نہیں بدلوں گی۔

اسلام انقلاب برپا کرتا ہے۔ دنیا اور آخرت دونوں کی بھلائیاں ادا کرتا ہے مگر دنیا کو آخرت پر ترجیح نہیں دیتا۔ پھر اللہ نے حضرت خنساء کو اسلام کی دولت سے نوازا۔ جب وہ مسلمان ہو گئیں تو زندگی بالکل تبدیل ہو گئی۔ نیک نیتی کے ساتھ اسلام کی طرف قدم اٹھایا اللہ نے ہر مشکل آسان کر دی۔

ایک دفعہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مدینہ میں اعلان کروایا کے سعد بن ابی وقاص کو تازہ دم فوج کی ضرورت ہے۔ ان کے مقابلے پر ہاتھیوں کی فوج آ رہی ہے۔ تو فوج تیار کی گئی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجاہدین کو گھوڑے پر سوار کر کےاور خود پیدل چل کر ان کو رخصت کیا کرتے وقت تھے۔اسی طرح حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق اس فوج کو جنگ کے لیے روانہ کیا۔

اسی دوران دیکھا کہ ایک بوڑھی خاتون گھوڑے پر سوار بیٹھی ہیں۔پوچھا گیا کہ بی بی آپ کہاں جا رہی ہیں؟ تو بولیں کہ امیر المؤمنین جہاد پر جا رہی ہوں۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بولے کہ جہاد پر جانا تو مردوں کا کام ہے۔ تو کہنے لگی ہاں یہ میرے چار بیٹے میرے دائیں بائیں ہیں ان کو ساتھ لے کر جنگ پر جا رہی ہوں۔

یہ وہی حضرت خنساء بنت امر ہیں جو اپنے بھائیوں کے قتل پر ایک الگ روپ میں تھی دنیا کے سامنے اور اسلام قبول کرنے کے بعد ان کا ایک الگ روپ سامنے آیا۔ اس بہادر ماں کے چاروں بیٹوں کو اس جنگ میں شہادت نصیب ہوئی تو سجدے میں گر گئیں۔ آنکھوں سے آنسو آگئے۔ یہ تشکر کے بھی آنسو تھے اور غم کے بھی۔ اور بولیں “اے اللہ! یہ تیرے راستے میں میں نے قربانی دی ہے۔ اللہ میری قربانی قبول فرما لے اور میری تمنا ہے میرے مولا کہ میں اپنے بیٹوں سے جنت میں جا کر ملوں”۔ حضرت خنساء بنت امر ایمان اور انقلاب کی بہادری کی ایک بہترین مثال ہیں۔

Leave A Reply

Please enter your comment!
Please enter your name here